منگل 13 اکتوبر 2026 - 09:07
دشمن کی نفسیاتی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے دین کی خوبصورتیوں اور اسلامی اقدار کو اجاگر کریں

حوزہ/ حجت‌الاسلام والمسلمین پناہیان نے کہا: دشمن کی نفسیاتی جنگ کا ایک طریقہ غلط رویوں کو خوبصورت اور الٰہی حقائق کو بدصورت بنا کر پیش کرنا ہے۔ اس نفسیاتی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دین کی خوبصورتیوں اور اسلامی اقدار کو درست انداز میں معاشرے کے سامنے پیش کیا جائے اور لوگوں کو حق کی طرف راغب کرنے کے لیے فن، ادب اور ذرائع ابلاغ کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌ الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان نے ٹیلی ویژن پروگرام ’’سمت خدا‘‘ میں معاشرے کی فکری اور ثقافتی رہنمائی میں خوبصورتی کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے دشمن اور شیطان کی نفسیاتی کارروائیوں کا ایک طریقہ غلط رویوں کو خوبصورت اور الٰہی حقائق و اقدار کو بدصورت بنا کر پیش کرنا ہے۔ قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس طریقے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور دشمن کی فکری و ثقافتی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے پہچاننا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا: قرآن کریم میں بارہا اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ انسان کی نگاہ میں غلط اعمال کو آراستہ کرکے پیش کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات انسان اپنے غلط رویے کو خوبصورت سمجھتا ہے اور اسے مکمل طور پر منطقی اور درست انتخاب تصور کرتا ہے حالانکہ یہ سوچ اس کے ذہن اور دل پر بیرونی عوامل کے اثرات کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں انسان نہ صرف اپنے رویے کی برائی کو محسوس نہیں کرتا بلکہ اسے قابلِ قدر اور قابلِ دفاع بھی سمجھنے لگتا ہے۔

حجت‌الاسلام والمسلمین پناہیان نے مزید کہا: قرآن کریم باطل محاذ کی وضاحت کرتے ہوئے صرف نظریات کے اختلاف کی بات نہیں کرتا بلکہ بعض مقامات پر بتاتا ہے کہ لوگوں کے غلط اعمال ان کی نگاہ میں آراستہ اور خوبصورت بنا دیے گئے ہیں۔ اس لیے انسانوں کے بعض رویوں کو سمجھنے کے لیے صرف ان کے ظاہری دلائل اور منطق پر توجہ دینا کافی نہیں، کیونکہ ممکن ہے کہ ان کے اندر خوبصورتی اور بدصورتی کا تصور ہی تبدیل ہوچکا ہو۔

حوزہ و یونیورسٹی کے اس استاد نے انسان کی تربیت اور ہدایت میں زیبائی کے بنیادی مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں مؤمنوں کے دلوں میں ایمان کو محبوب بنانے اور کفر، فسق و گناہ کو ان کے لیے ناپسندیدہ قرار دینے کا ذکر فرماتا ہے۔ سورۂ حجرات کی آیت نمبر 7 میں ارشاد ہوتا ہے: «وَلَکِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَیْکُمُ الْإِیمَانَ وَزَیَّنَهُ فِی قُلُوبِکُمْ وَکَرَّهَ إِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ» ’’اللہ نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا اور کفر، نافرمانی اور گناہ کو تمہارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ممکن ہے انسان قرآن کریم کے تمام معنوی لطائف کو مکمل طور پر نہ سمجھ سکے لیکن اس کے باوجود اس کی خوبصورتی کو محسوس کرسکتا ہے۔ جس طرح کوئی شخص فردوسی یا حافظ کے کلام کے تمام معنوی پہلوؤں سے واقف نہ ہونے کے باوجود ان کے اشعار اور زبان کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوسکتا ہے، اسی طرح قرآن کریم کی تلاوت بھی تمام معانی کی تفصیلی معرفت سے پہلے انسان کو کلامِ الٰہی کے حسن کی طرف متوجہ کرسکتی ہے۔

حجت‌الاسلام والمسلمین پناہیان نے کہا: دین کی تبلیغ کے لیے ہمیں قرآن سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ صرف منطقی دلائل کے ذریعے حقائق کو ثابت کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ حقیقت کی خوبصورتی کو بھی مخاطب کے سامنے آشکار کریں۔ اگر دینی حقائق کو مناسب اور دلنشین انداز میں پیش کیا جائے تو لوگوں کے لیے ان سے گہرا تعلق قائم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha